12 مارچ 2012 - 20:30

اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیرخارجہ علی اکبرصالحی نے پیر کے دن تہران میں روس کی قومی سلامتی کونسل کے ڈپٹی سیکریٹری سے ملاقات میں کہا کہ ایران اور روس ایک دوسرے کے ساتھ مل کر علاقائی اور بین الاقوامی مسائل میں اپنے مفادات کی راہ میں کام کرسکتے ہیں۔

ابنا: علی اکبر صالحی نے کہا کہ تہران اور ماسکو دیگر خود مختار ملکوں کے ہمراہ موجودہ بحران کو سرکرنے اور سیاسی و اقتصادی اصلاحات نیز ترقی کےمراحل طے کرنے میں شام کی حکومت اور ملت کی مدد کرسکتے ہیں۔ علی اکبر صالحی نے روس میں حالیہ کامیاب صدارتی انتخابات اور ولادیمر پوتین کی کامیابی پر مبارک باد پیش کی۔ اس ملاقات میں روس کی قومی سلامتی کونسل کے ڈپٹی سیکریٹری نے علاقائي اور عالمی مسائل کے بارے میں روس اور ایران کے صلاح مشوروں کےجاری رہنے کو ضروری قراردیا۔

ادھر اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیر خارجہ علی اکبر صالحی نے کہا ہے کہ ایران نے ہمیشہ افغانستان میں امن و استحکام اور ترقی کی حمایت کی ہے ۔ علی اکبر صالحی نے یہ بھی کہا کہ ایران اس بات پر بھی تاکید کرتا آيا ہے کہ افغانستان سے بیرونی افواج کو واپس چلاجانا چاہیے اور بیرونی افواج ہی ا فغانستان میں بدامنی کا بنیادی سبب ہیں۔

علی اکبر صالحی نے پیر کے دن افغانستان کے امور میں ا قوام متحدہ کے نئے نمائندے یان کو بیش سے ملاقات میں افغانستان کے بارے میں اسلامی جمہوریہ ایران کے موقف کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ اقوام متحدہ ایک بین الاقوامی ادارے کی حیثیت سے بعض ملکوں کے دباؤ میں آئے بغیر افغانستان سیمت تمام ملکوں منجملہ اسکے ہمسایہ ملکوں کے فائدے میں کام کرے گی۔ علی اکبر صالحی نے افغانستان میں امریکی فوجیوں کے ہاتھوں اسلامی مقدسات کی بےحرمتی کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اس طرح کے اشتعال انگيز اقدامات اور افغانستان میں بیرونی افواج کی موجودگي سے بحران میں مزید پیچیدگي ہی آئے گی ۔ افغانستان کے امور میں اقوام متحدہ کے نئے نمائندے نے علاقائي مسائل کو حل کرنےمیں ایران کو اقوام متحدہ کا موثر اتحادی قراردیا اور امید کا اظہار کیا کہ اسلامی جمہوریہ ایران، افغانستان کے مسائل حل کرنےمیں اپنا موثر کردار جاری رکھے گا۔ ........ /169